پاکستانی کھانوں کی دنیا میں کچھ اجزاء ایسے ہیں جو زیادہ مشہور نہیں لیکن ان کا کردار بہت اہم ہے۔ کلونجی اور میتھی ایسے ہی دو قیمتی نباتاتی اجزاء ہیں جن کے بارے میں نئی نسل اکثر کم جانتی ہے، لیکن پاکستانی بزرگ خواتین ان کو باورچی خانے میں ہمیشہ رکھتی تھیں۔
یہ دونوں اجزاء پاکستانی روایتی ترکیبوں کا حصہ ہیں اور انہیں مختلف انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا ذائقہ منفرد اور یادگار ہوتا ہے — ایک بار کھانے میں شامل ہو جائیں تو بھولا نہیں جاتا۔
کلونجی — پاکستانی روٹی کی شان
کلونجی چھوٹے سیاہ بیج ہیں جن کی خوشبو میں ایک خاص کڑواہٹ اور تیزی ہوتی ہے۔ پاکستان میں کلونجی سب سے زیادہ نان اور روٹی پر ڈالی جاتی ہے۔ تنوری نان پر کلونجی چھڑکنا پاکستانی بیکری کی ایک قدیمی روایت ہے۔
نان پر کلونجی
تنوری نان بناتے وقت آٹے کو بیل کر اوپر سے کلونجی چھڑکیں اور ہاتھ سے ہلکا دبائیں تاکہ پکنے کے بعد گر نہ جائے۔ یہ نان کو ایک خاص خوشبو اور ذائقہ دیتا ہے۔
کلونجی کے دیگر استعمال
صرف نان تک محدود نہیں — کلونجی پاکستانی اچار اور چٹنیوں میں بھی ڈالی جاتی ہے۔ آم کا اچار، گاجر کا اچار اور مختلف سبزیوں کے اچار میں کلونجی کا استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ اچار کو ایک خاص ذائقہ اور خوشبو دیتی ہے۔
پاکستانی سالن — خاص طور پر آلو گوشت اور مٹر گوشت — میں بھی کلونجی کبھی کبھی ڈالی جاتی ہے۔ یہ سالن کو ایک منفرد گہرائی دیتی ہے۔
میتھی — پاکستانی سردیوں کا خاص جزو
میتھی (Fenugreek) پاکستان میں خاص طور پر موسم سرما میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ میتھی کے تازہ پتے، خشک پتے (قصوری میتھی) اور بیج تینوں مختلف انداز میں استعمال ہوتے ہیں۔
- تازہ میتھی کے پتے: آلو میتھی اور مرغی میتھی سالن میں
- قصوری میتھی (خشک پتے): کڑاہی اور بٹر چکن میں خوشبو کے لیے
- میتھی کے بیج: اچار اور تڑکے میں
- میتھی کا پراٹھا: پاکستانی ناشتے کا مقبول پکوان
آلو میتھی — موسمی پاکستانی پکوان
آلو میتھی پاکستانی گھروں میں سردیوں کا ایک بہت پسندیدہ کھانا ہے۔ تازہ میتھی کے پتوں کو آلو کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ میتھی کی قدرتی کڑواہٹ آلو کی نرمی کے ساتھ مل کر ایک بہترین توازن بناتی ہے۔
میتھی کی کڑواہٹ کم کرنا
تازہ میتھی کے پتوں کو استعمال سے پہلے نمک ملا کر تھوڑی دیر رکھ دیں، پھر نچوڑ کر دھو لیں۔ اس طرح اس کی اضافی کڑواہٹ کم ہو جاتی ہے۔
میتھی کے بیج کا استعمال
میتھی کے بیج (Fenugreek seeds) ہلکے زرد-بھورے رنگ کے چھوٹے مستطیل بیج ہوتے ہیں۔ ان کا ذائقہ کڑوا اور خوشبو تیز ہوتی ہے۔ پاکستانی اچار میں میتھی کے بیجوں کا استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے۔
میتھی کے بیجوں کو پانی میں بھگو کر صبح خالی پیٹ پانی پینے کی روایت بھی پاکستانی گھروں میں رہی ہے، خاص طور پر بزرگ خواتین میں یہ عمل بہت عام تھا۔
کلونجی اور میتھی خریدنے کی رہنمائی
کلونجی خریدتے وقت دیکھیں کہ بیج صاف، چمکدار سیاہ ہوں اور کوئی گرد یا ملاوٹ نہ ہو۔ میتھی کے بیج یکساں رنگ کے اور سخت ہونے چاہیے۔ خشک قصوری میتھی تازہ خوشبو والی ہو اور رنگ سبز-بھورا ہو۔
مزید معلومات کے لیے Encyclopaedia Britannica پر میتھی کا مضمون ملاحظہ کریں۔
ان اجزاء کو واپس اپنی رسوئی میں لائیں
جیسے جیسے جدید کھانے مقبول ہوئے، کلونجی اور میتھی جیسے روایتی اجزاء پیچھے رہ گئے۔ لیکن پاکستانی کھانوں کی اصل روح انہی اجزاء میں ہے۔ انہیں دوبارہ اپنی رسوئی کا حصہ بنائیں اور اپنے کھانوں کو ایک نئی اور یادگار خوشبو دیں۔